حدیث نمبر: 7279
وَعَنْ بَرِيرَةَ قَالَتْ : كَانَ فِيَّ ثَلَاثَةً مِنَ السُّنَّةِ : تُصُدِّقَ عَلَيَّ بِلَحْمٍ فَأَهْدَيْتُهُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَبْقَتْهُ حَتَّى دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا اللَّحْمُ ؟ " فَقَالَتْ : لَحْمٌ تُصُدِّقُ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا . فَقَالَ : " هُوَ عَلَى بَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . ¤ وَكَاتَبَتْ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنْ شَاءُوا عَدَدْتُ لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً . قُلْتُ : هُمْ يَقُولُونَ : إِلَّا أَنْ يُشْتَرَطَ لَهُمُ الْوَلَاءُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْتَرِطِي وَاشْتَرِطِي ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ¤ قَالَتْ : وَأُعْتِقْتُ فَكَانَ لِي الْخِيَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے بارے میں تین چیزیں ، سنت سے ثابت ہوئی ہیں ، مجھے گوشت صدقے کے طور پر دیا گیا ، وہ میں نے تحفے کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رکھ لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : یہ گوشت کہاں سے آیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا جانے والا گوشت ہے ، وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ بریرہ کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نواقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اگر وہ لوگ چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ ادائیگی کر دیتی ہوں ، میں نے کہا: وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ولاء کا حق ان کے لئے رہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم شرط رہنے دو تم شرط رہنے دو ! کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب میں آزاد ہو گئی ( تو مجھے شوہر کے ساتھ رہنے ، یا علیحدگی کا ) اختیار دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (204/24)»