مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ . باب: مومن گردن ( غلام یا کنیز ) کا بیان
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ . قَالَ : " فَمَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتُؤْمِنِينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ ایک سیاہ فام کنیز تھی ، اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، تو کیا یہ کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : آسمان میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے تم اس پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس عورت سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! یہ مومن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔