مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ . باب: مومن گردن ( غلام یا کنیز ) کا بیان
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِأَمَةٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ عَنِّي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " قَالَتْ : اللَّهُ رَبِّي . قَالَ : " فَمَا دِينُكِ ؟ " قَالَتِ : الْإِسْلَامُ . قَالَ : " فَمَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " فَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " وَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتَصُومِينَ رَمَضَانَ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُقِرِّينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِهَا وَقَالَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَقَدَ أَجْزَأَتْ عَنْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْإِيمَانِ ، وَفِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ قُبَيْلَ هَذَا . ¤عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : مجھے میرے والد نے ، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک عورت اپنی کنیز کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، تو کیا یہ میری طرف سے کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیث دریافت کیا : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ اس کنیز نے عرض کی : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اسلام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم پانچ نمازیں ادا کرتی ہو ؟ اُس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم رمضان کے روزے رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس چیز کا اقرار کرتی ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا اور فرمایا : اسے آزاد کر دو ! یہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ایمان سے متعلق باب میں اور اس شخص سے متعلق باب میں ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اس سے کچھ پہلے گزرا ہے ، اس میں ذکر کی گئی ہیں ۔