مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ . باب: مومن گردن ( غلام یا کنیز ) کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ أَعْجَمِيَّةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِنِي بِهَا " . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : وَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ( مَتْنُ ) أَحَدِهِمَا مِثْلُ هَذَا ، وَالْآخَرُ : فَقَالَ لَهَا : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " . فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ . قَالَ : " مَنْ أَنَا " . قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . ¤ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْمَرْزُبَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ ، وَعَنْعَنَهُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : مجھ پر ایک گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، اور میرے پاس ایک سیاہ فام عجمی کنیز موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں ، اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک روایت کا متن اس روایت کی مانند ہے ، اور دوسری کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ، ایک راوی سعید بن ابومرزبان ہے ، وہ ضعیف اور تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ” عنعنہ“ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ برے حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔