حدیث نمبر: 723
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ قَوْمًا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ ، كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ " يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ " . وَ " يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ " . وَ " يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى " . " وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ " . وَ " يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ " . وَ " يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ " . مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ . قَالَ : وَأَوَّلُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْمَلَائِكَةُ ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ لَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ ، كَانَ النَّبِيُّ إِذَا آذَاهُ قَوْمُهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا حَتَّى يَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کے اصحاب سے زیادہ بہتر قوم نہیں دیکھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے تک اُن لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے 13 چیزوں کے بارے میں سوال کئے تھے ، اُن سب کا ذکر قرآن میں ہے : ” لوگ تم سے حرمت والے مہینے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ” لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ” لوگ تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ” لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ ” لوگ تم سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں “ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) وہ حضرات صرف اُس چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جو انہیں فائدہ دے ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) خانہ کعبہ کے گرد طواف ، سب سے پہلے فرشتوں نے کیا تھا اور حجر اسود سے لے کر رکن یمانی کے درمیان میں کچھ انبیاء کرام کی قبریں ہیں ، جب کسی نبی کو اُس کی قوم کے افراد اذیت پہنچاتے تھے ، تو وہ اُن لوگوں کے درمیان سے نکل جاتے تھے ( اور خانہ کعبہ کے پاس آ کر ) مرتے دم تک ، یہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، یہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12288»