حدیث نمبر: 7159
عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ قَسْمُ الْجَدِّ ؟ قَالَ : " مَا سُؤَالُكَ عَنْ ذَلِكَ يَا عُمَرُ ؟ إِنِّي أَظُنُّكَ تَمُوتُ قَبْلَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ " . فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : دادا کا حصہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! یہ سوال تم نے کیسے کیا ہے ؟ تمہارے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ تم اس کے بارے میں علم رکھنے سے پہلے انتقال کر جاؤ گے ( یعنی تمہیں اس کا جواب کبھی نہیں مل سکے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس بارے میں علم حاصل ہونے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سعید بن مسیب کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7159
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع