مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ اسْتَلْحَقَ أَحَدًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی فرد کو اپنے ساتھ لاحق کر لے
حدیث نمبر: 7158
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَدْ أُلْحِقَ بِعُصْبَتِهِ وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ ، وَلَا يُورَثُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں زنا کی گنجائش نہیں ہے ( یعنی اس کے ذریعے نسبی تعلق ثابت نہیں ہو گا ) جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا تھا اور پھر اسے اُس کے عصبہ کے ساتھ لاحق کر دیا گیا ، یا جو شخص کسی ایسے بچے کو دعوی کرتا ہے ، جس کا ثبوت شرعی طریقے سے نہ ہو ، تو نہ وہ ( بچہ ) وارث بنے گا اور نہ اس کا وارث بنا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔