مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُسْلِمُ وَبَعْضُ وَرَثَتِهِ عَلَى غَيْرِ دِينِهِ فَيُسْلِمُ قَبْلَ قِسْمَةِ الْمِيرَاثِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اسلام قبول کرتا ہے اور اس کے ورثاء میں کوئی اس کے دین پر نہیں ہوتا ، اور پھر وراثت کی تقسیم سے پہلے ، وہ ( غیر مسلم وارث ) بھی اسلام قبول کر لیتا ہے
عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ قَتَادَةَ حَدَّثَ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ مَاتَ ، وَهُوَ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ قَالَ : فَوَرِثَتْهُ أُخْتِي دُونِي ، وَكَانَتْ عَلَى دِينِهِ ، ثُمَّ إِنَّ أَبِي أَسْلَمَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُنَيْنًا فَمَاتَ فَأَحْرَزْتُ مِيرَاثَهُ ، وَكَانَ تَرَكَ غُلَامًا وَنَخْلًا ، ثُمَّ إِنَّ أُخْتِي أَسْلَمَتْ فَخَاصَمَتْنِي فِي الْمِيرَاثِ إِلَى عُثْمَانَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ : أَنَّ عُمَرَ قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى مِيرَاثٍ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَلَهُ نَصِيبُهُ فَقَضَى بِهِ عُثْمَانُ . فَذَهَبَتْ بِذَلِكَ الْأَوَّلِ وَشَارَكَتْنِي فِي هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَسَّانَ بْنَ بِلَالٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤حسان بن بلال بیان کرتے ہیں : یزید بن قتادہ نے یہ بات بیان کی کہ ان کے اہل خانہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، وہ دین اسلام کا قائل نہیں تھا ، تو میری بجائے میری بہن اس کی وارث بنی ، جو اس کے دین پر تھی ، پھر میرے والد نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی ، پھر ان کا انتقال ہو گیا ، تو میں نے ان کی پوری وراثت حاصل کر لی ، ۔ انہوں نے ایک غلام اور کھجوروں کا ایک باغ چھوڑا تھا ، پھر میری بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا اور وراثت کے بارے میں میرے خلاف مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ جو شخص وراثت کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کر لیتا ہے ، تو اسے وراثت میں سے حصہ ملے گا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کے مطابق فیصلہ دے دیا ، تو وہ خاتون پہلی چیز بھی لے گئی تھی اور پھر اس میں بھی میری شراکت دار بن گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسان بن بلال کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔