مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ الْفَرَائِضِ . باب: علم وراثت کا بیان
وَعَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، أَوْشَكَ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْتَصِمُ الرَّجُلَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يَقْضِي بَيْنَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السُّدُوسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ ( أَبِي ) كَعْبٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم وراثت سیکھو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وراثت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گا ، تو وہ کسی ایسے شخص کو نہیں پائیں گے ، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے سکے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی سعید بن ابی کعب ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں ۔