مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ الْفَرَائِضِ . باب: علم وراثت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ مِنْكُمُ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ ، فَإِنْ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ قَالَ : يَا مُهَاجِرُ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ . فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ : وَأَنَا أَقْرَؤُهُ . فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ : أَتُفْرِضُ يَا مُهَاجِرُ ؟ فَإِذَا قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : زِيَادَةٌ وَخَيْرٌ . وَإِنْ قَالَ : لَا أَحْسَبُهُ . قَالَ : فَمَا فَضْلُكَ عَلَيَّ يَا مُهَاجِرُ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُهَاجِرُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے جو شخص قرآن پڑھتا ہے اسے علم وراثت کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے ، کیونکہ اگر کوئی دیہاتی اس سے ملے اور یہ کہے : اے مہاجر ! کیا تم قرآن کا علم رکھتے ہو ؟ وہ جواب دے گا : جی ہاں ! تو دیہاتی کہے گا : میں بھی اسے پڑھ سکتا ہوں ، پھر دیہاتی پوچھے گا : اے مہاجر ! کیا تم علم وارثت جانتے ہو ؟ اگر وہ جواب دے گا : جی ہاں ! تو دیہاتی کہے گا : یہ تو مزید خوبی ہے اور بہتری ہے ، اور اگر مہاجر یہ کہے : کہ میں اس کے بارے میں نہیں جانتا ، تو دیہاتی کہے گا : اے مہاجر ! تمہیں مجھ پر کیا فضیلت حاصل ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مہاجر بن کثیر صنعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔