حدیث نمبر: 7133
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الرَّجُلَانِ فِي الْفَرِيضَةِ لَا يَجِدَانِ مَنْ يُخْبِرُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کا علم حاصل کرو ، اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم وراثت سیکھو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، کیونکہ میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو دنیا سے رخصت ہو جائے گا ، اور علم کو عنقریب اٹھا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وراثت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو گا ، تو انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا ، جو انہیں ( صحیح مسئلہ کے بارے میں ) خبر دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7134
وَعَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، أَوْشَكَ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْتَصِمُ الرَّجُلَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يَقْضِي بَيْنَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السُّدُوسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ ( أَبِي ) كَعْبٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم وراثت سیکھو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وراثت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گا ، تو وہ کسی ایسے شخص کو نہیں پائیں گے ، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے سکے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی سعید بن ابی کعب ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی سعید بن ابی کعب ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7135
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ مِنْكُمُ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ ، فَإِنْ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ قَالَ : يَا مُهَاجِرُ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ . فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ : وَأَنَا أَقْرَؤُهُ . فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ : أَتُفْرِضُ يَا مُهَاجِرُ ؟ فَإِذَا قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : زِيَادَةٌ وَخَيْرٌ . وَإِنْ قَالَ : لَا أَحْسَبُهُ . قَالَ : فَمَا فَضْلُكَ عَلَيَّ يَا مُهَاجِرُ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُهَاجِرُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے جو شخص قرآن پڑھتا ہے اسے علم وراثت کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے ، کیونکہ اگر کوئی دیہاتی اس سے ملے اور یہ کہے : اے مہاجر ! کیا تم قرآن کا علم رکھتے ہو ؟ وہ جواب دے گا : جی ہاں ! تو دیہاتی کہے گا : میں بھی اسے پڑھ سکتا ہوں ، پھر دیہاتی پوچھے گا : اے مہاجر ! کیا تم علم وارثت جانتے ہو ؟ اگر وہ جواب دے گا : جی ہاں ! تو دیہاتی کہے گا : یہ تو مزید خوبی ہے اور بہتری ہے ، اور اگر مہاجر یہ کہے : کہ میں اس کے بارے میں نہیں جانتا ، تو دیہاتی کہے گا : اے مہاجر ! تمہیں مجھ پر کیا فضیلت حاصل ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مہاجر بن کثیر صنعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مہاجر بن کثیر صنعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7136
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَفْتَقِرَ الرَّجُلُ إِلَى عِلْمٍ كَانَ يَعْلَمُهُ أَوْ يَبْقَى فِي قَوْمٍ لَا يَعْلَمُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : علم وراثت سیکھو ! کیونکہ عنقریب آدمی کسی ایسے علم کا محتاج ہو گا ، جسے وہ پہلے جانتا تھا ، یا پھر یہ ہے کہ وہ ایسی قوم میں داخل ہو جائے گا ، جو علم نہیں رکھتے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 7137
وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِعَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَالْكَلَالَةِ وَكَثِيرٍ مِمَّا يُقْضَى بِهِ فِي هَذِهِ الْأُمُورِ لَا يُعْلَمُ مَبْلَغُهَا ، وَقَدْ كُنَّا نَحْضُرُ مِنْ ذَلِكَ أُمُورًا عِنْدَ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَعَيْنَا مِنْهَا مَا شِئْنَا أَنْ نَعِيَ فَنَحْنُ نُفْتِي ( بِهِ ) بَعْدُ مَنِ اسْتَفْتَانَا فِي الْمَوَارِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وِجَادَةً ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
ابوزناد بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے خارجہ سے یہ مکتوب حاصل کیا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، یہ زید بن ثابت کی طرف سے اللہ کے بندے اور امیرالمؤمنین ! سیدنا معاویہ کے نام ہے ، اے امیر المؤمنین ! آپ کو سلام ہو اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں ، میں آپ کے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اما بعد ! آپ نے مجھ سے دادا ، بھائیوں اور کلالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا ہے اور دیگر بہت سے امور کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جن کے بارے میں فیصلہ دیا جاتا ہے اور جس کے مسئلہ کا علم نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء کی موجودگی میں ، ہم اس طرح کے معاملات میں موجود رہے ہیں ، تو ان میں سے جو باتیں ہم نے محفوظ رکھنا چاہیں ، وہ محفوظ رکھ لیں ، اور اب اس کے بعد وراثت کے بارے میں جو شخص ہم سے حکم دریافت کرتا ہے ، ہم اس کے مطابق فتوی دے دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔