مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ الْفَرَائِضِ . باب: علم وراثت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الرَّجُلَانِ فِي الْفَرِيضَةِ لَا يَجِدَانِ مَنْ يُخْبِرُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کا علم حاصل کرو ، اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، علم وراثت سیکھو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو ، کیونکہ میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو دنیا سے رخصت ہو جائے گا ، اور علم کو عنقریب اٹھا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وراثت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو گا ، تو انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا ، جو انہیں ( صحیح مسئلہ کے بارے میں ) خبر دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔