مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ . باب: حضرت نوح علیہ السلام کی وصیت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا ( قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنَ فَارِسٍ ! قَالَ ) : يُرِيدُ ( أَنْ ) يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ( ابْنِ فَارِسٍ ) وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ ! قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ : إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ : آمُرُكَ بِاثْنَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَيْنِ . آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتَ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ لَوْ ( وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إَلَّا اللَّهُ ، وَلَو أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ ) كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ " .
قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ ؟ الْكِبْرُ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : [ أَ ] فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ ؟ قَالَ : " سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص آیا ، اس نے سیجان کا جبہ پہنا ہوا تھا ، جس پر دیباج کے بٹن لگے ہوئے تھے اس نے کہا: خبردار تمہارے اس ساتھی نے ہر شہسوار ابن شہسوار کو پست کر دیا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس نے یہ بھی کہا : یہ ہر شہسوار ابن شہسوار کو پست کرنا اور ہر چرواہے ابن چرواہے کو بلند کرنا چاہتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبہ کے کنارے پکڑے اور فرمایا : کیا میں تم پر ایسا لباس نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ جو اس شخص کا ہوتا ہے ، جسے عقل نہ ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نبی سیدنا نوح علیہ السلام کا جب وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ، میں تمہیں لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ایک پلڑے میں رکھا جائے تو لا الہ الا اللہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا ، اور اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک بند حلقہ بن جائیں ، تو لا اله الا اللہ اور سبحان اللہ و بحمدہ انہیں توڑ دے گا ، یہ ہر چیز کی نماز ہے ، اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تمہیں شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک کا تو ہمیں پتہ چل گیا ہے ، تکبر سے کیا مراد ہے ؟ کیا تکبر سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے اچھے جوتے ہوتے ہیں ، جس کے اچھے تسمے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کا عمدہ حلہ ہوتا ہے ، جسے وہ پہنتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کا جانور ہو جس پر وہ سوار ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ لوگ ہوں ، جن کے ساتھ وہ بیٹھتا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حق کو کمتر سمجھنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا“ ۔