مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ . باب: حضرت نوح علیہ السلام کی وصیت کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ طَيَالِسَةٌ مَلْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ فَقَالَ : " إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ : إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكُمَا عَنِ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهَا لَفَصَمَتْهَا أَوْ لَفَصَمَتْهَا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : " وَأُوصِيكَ بِالتَّسْبِيحِ ، فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ وَبِالتَّكْبِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرْتُهُ فِي الْأَذْكَارِ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت ، جو اُن سے منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے جسم پر طیالسی جبہ تھا ، جس پر دیباج لگا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” سیدنا نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا : میں تمہیں ایک مختصر وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور میں تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ، میں تم دونوں کو شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ، اور تم دونوں کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزیں اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ایک پلڑے میں رکھا جائے ، تو وہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر تمام آسمان اور زمین حلقہ بن جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ان پر رکھا جائے ، تو وہ اس میں سے نکل جائے گا “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں تمہیں سبحان اللہ پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے اور تکبیر پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر ذکر کی ہے ، میں نے اس کا ذکر ” اذکار “ والے باب میں لا الہ الا اللہ کی فضیلت سے متعلق باب میں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔