مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی وصیت کا بیان
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا كَاهِلٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " أَحْيَا اللَّهُ قَلْبَكَ ، وَلَا يُمِيتُهُ يَوْمَ يَمُوتُ بَدَنُكَ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ لَنْ يَغْضَبَ رَبُّ الْعِزَّةِ عَلَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَخَافَةٌ ، وَلَا تَأْكُلُ النَّارُ مِنْهُ هُدْبَةً . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً حَيَاءً مِنَ اللَّهِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ دَخَلَتْ حَلَاوَةُ الصَّلَاةِ قَلْبَهُ حَتَّى يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرْوِيَهُ يَوْمَ الْعَطَشِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ كَفَّ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكُفَّ عَنْهُ أَذَى الْقَبْرِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ حَيًّا وَمَيِّتًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : كَيْفَ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ إِذَا كَانَا مَيِّتَيْنِ ؟ قَالَ : " بِرُّهُمَا أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِوَالِدَيْهِ ، وَلَا يَسُبَّهُمَا ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْ أَحَدٍ فَيَسُبَّ وَالِدَيْهِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ عِنْدَ حُلُولِهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنْ رُفَقَاءِ الْأَنْبِيَاءِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ قَلَّتْ عِنْدَهُ حَسَنَاتُهُ وَعَظُمَتْ عِنْدَهُ سَيِّئَاتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُثْقِلَ مِيزَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَعَى عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ يُقِيمُ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ وَيُطْعِمُهُمْ مِنْ حَلَالٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مَعَ الشُّهَدَاءِ فِي دَرَجَاتِهِمْ . اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا بِي وَشَوْقًا لِي كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ ، اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ مُسْتَيْقِنًا بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ ذُنُوبَ حَوْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ مُظْلِمٌ . ¤سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوکاہل ! کیا میں تمہیں اس فیصلے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں طے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو زندگی دے اور اس دن اسے موت کا شکار نہ کرے جب تمہارا جسم مر جائے گا اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو ! کہ رب العزت اس شخص پر غضبناک نہیں ہو گا ، جس کے دل میں خوف ہو اور آگ اس شخص کو بالکل بھی نہیں کھائے گی ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر شرمگاہ کا پردہ رکھے گا ، تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پوشیدہ معاملات کا پردہ رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کے دل میں نماز کی حلاوت داخل ہو جائے ، یہاں تک کہ وہ اُس کے رکوع اور سجود کو مکمل کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس بندے کو راضی کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص چالیس دن اور چالیس راتوں تک با جماعت نماز یوں ادا کرے کہ وہ تکبیر اولی کو بھی پا لے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کو نوٹ کر لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور ساتھ رمضان کے روزے بھی رکھے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ پیاس والے دن اُسے سیراب کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قبر کی اذیت اُس سے روک لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی اور موت ، ہر حال میں اچھائی کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ قیامت کے دن اُسے راضی کرے ۔ میں نے عرض کی : کوئی شخص اپنے والدین کے مرنے کے بعد ، اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ اچھا سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرے اور انہیں برا نہ کہے اور کسی کے والدین کو برا نہ کہے کہ وہ جواب میں اُس کے والدین کو برا کہے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص زکوۃ لازم ہونے کے وقت اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہے ، تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے انبیاء کا ساتھی بنائے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کی نیکیاں کم ہوں گی اور اس کی برائیاں زیادہ ہوں گی ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پلڑے کو بھاری کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنی بیوی بچوں کے لئے ( کمائی کرنے کے لئے ) کوشش کرتا ہے اور اپنے زیر ملکیت لوگوں کے لئے کوشش کرتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم رکھتا ہے اور انہیں حلال رزق کھلاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کو شہداء کے ساتھ ان کے درجہ میں رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص روزانہ دن کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے اور رات کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے ، وہ مجھ سے محبت اور میرے شوق کی خاطر ایسا کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کے اس رات کے اور اس دن کے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ہر مرتبہ ( یہ کلمات پڑھنے پر ) اس شخص کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے ، جس کا ذکر امام ذہبی نے کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی سند تاریک ہے ۔