حدیث نمبر: 7118
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُصْبِحَ يَوْمَ صَوْمِي دَهِينًا مُتَرَجِّلًا : " وَلَا تُصْبِحْ يَوْمَ صَوْمِكَ عَبُوسًا . وَأَجِبْ دَعْوَةَ مَنْ دَعَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُظْهِرُوا الْمَعَازِفَ فَلَا تُجِبْهُمْ . وَصَلِّ عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ قَبِلَتِنَا ، وَإِنْ قُتِلَ مَصْلُوبًا أَوْ مَرْجُومًا . وَلَأَنْ تَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ قُرَابِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَبُثَّ الشَّهَادَةَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ قِبْلَتِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس دن میں نے روزہ رکھا ہوا ہو ، تو بالوں میں تیل بھی لگایا ہوا ہو ، اور بال سنوارے بھی ہوئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم روزے کی حالت میں ایسی صبح نہ کرنا کہ تم نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے ہوں اور مسلمانوں میں سے جو شخص تمہاری دعوت کرے تو اس کی دعوت قبول کر لینا ، جبکہ وہاں آلات موسیقی ظاہر نہ کیے گئے ہوں ، اگر ایسا ہو ، تو پھر تم قبول نہ کرنا ، اور اہل قبلہ میں سے جو شخص مر جاتا ہے ، تم اس کی نماز جنازہ ادا کرنا ، اگرچہ اسے مصلوب کر کے ، یا سنگسار کر کے مارا گیا ہو ، اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ تم نے پوری زمین جتنے گناہ ساتھ لیے ہوئے ہوں ، یہ چیز تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گی کہ تم نے اہل قبلہ میں سے کسی ایک کے خلاف گواہی دی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یمان بن سعید ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10028)»