مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 7119
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ : " اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ ، وَأَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّكِ لَا تَأْتِي اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذِكْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام انس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے آپ نے فرمایا : تم گناہوں سے لاتعلق رہو ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم فرائض کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنا ، کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لے کر جاؤ گی ، جو اس کے نزدیک اُس کے ذکر سے زیادہ محبوب ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔