حدیث نمبر: 7117
وَعَنْ أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضُوءَهُ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَوْصِنِي . فَقَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ . وَلَا تَعْصِ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلَّى مِنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتَخَلَّ . وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ . وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ . وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَاءَ بِسَخْطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ . وَلَا تَزْدَادَنَّ فِي تُخُومِ أَرْضِكَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ مِنْ مِقْدَارِ سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرَفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام امیمہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وضو کا پانی انڈیل رہی تھی اسی دوران ایک شخص اندر آیا ، اس نے کہا: آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے ، یا تمہیں آگ کے ذریعے جلا دیا جائے ، اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنی دنیا سے نکل جاؤ ، تو تم نکل جانا اور تم شراب ہرگز نہ پینا ، کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ، اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر واپس آتا ہے ، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے ، اور تم زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات میں کوئی اضافہ نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرے گا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی گردن پر سات زمینوں کی مقدار جتنے ( وزن کا طوق ) ہو گا اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان سے اپنے عصا کو اُٹھا کے نہ رکھنا اور اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (190/24)»