حدیث نمبر: 7115
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتُ أَوْ حُرِّقْتُ . وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا ؛ فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَهَا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ . وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ . وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دُنْيَاكَ فَاخْرُجْ مِنْهَا . وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِنَّكَ أَنْتَ أَنْتَ وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكْتَ . وَأَقْرِ أَصْحَابَكَ ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمُ الْعَصَا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ " ( فَقَطْ ) . وَقَدْ عَلَّمَ الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ عَلَيْهِ عَلَامَةَ ابْنِ مَاجَهْ وَلَعَلَّهُ قَلَّدَ فِيهِ ابْنُ عَسَاكِرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی تھی : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ، اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص اسے ترک کر دیتا ہے اس سے ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے ، اور تم اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم دنیا سے نکل جاؤ ، تو تم اس سے نکل جانا اور تم حکومت کے بارے میں متعلقہ فرد سے تنازع نہ کرنا ، تم تم ہی ہو اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ، خواہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تم اپنے ساتھیوں کی مہمان نوازی کرنا ، اور اپنے اہل خانہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا ، اور تم اُن سے عصا نہ اٹھانا اور تم اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے “ ۔ شیخ جمال الدین مزی نے اس پر ” ابن ماجہ “ کی علامت لگائی ہے ، شاید انہوں نے اصل میں ” ابن عساکر “ کہنا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن