حدیث نمبر: 7113
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي . قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ؛ فَإِنَّهَا رَأْسُ أَمْرِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورٌ لَكَ فِي السَّمَاوَاتِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " لَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ ؛ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ ؛ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ؛ فَإِنَّهُ مَرَدَّةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " انْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكَ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عِنْدَكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " صِلْ قَرَابَتَكَ ، وَإِنْ قَطَعُوكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " لَا تَخَفْ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " تُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ " . ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ مِنْ عِنْدِ قَوْلِهِ : لَا وَرَعَ كَالْكَفِّ إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو زُرْعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ تمہارے معاملے ( یعنی دین ) کی بنیاد ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اللہ کا ذکر کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ چیز تمہارے لئے آسمانوں میں نور ہو گی اور زمین میں تمہارے لئے نور ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم زیادہ نہ ہنسنا ، کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ میری امت کے رہبانیت ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر خاموش رہنا لازم ہے البتہ بھلائی کی بات کا معاملہ مختلف ہے ، یہ چیز شیطان کو تم سے پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہاری مددگار ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا جائزہ لینا جو تم سے کمتر ہو ، تم اس کی طرف نہ دیکھنا جو تم سے بلند تر ہو ، یہ چیز اس بات کے زیادہ لائق ہو گی کہ تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہیں سمجھو گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اگرچہ وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے لئے اُسی چیز کو پسند کرنا ، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! تدبیر کی مانند کوئی عقل مندی نہیں ہے ، احتیاط کی مانند کوئی پرہیز گاری نہیں ہے ، اور اچھے اخلاق کی مانند کوئی خوبی نہیں ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پرہیز کی مانند کوئی احتیاط نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں سے لے کر آخر تک نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی غسانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7113
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1651) ورواه ابن حبان فى صحيحه رقم (361) مطولا»