مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 7112
وَعَنْ حَرْمَلَةَ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، فَقَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَإِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْهُ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا تَكْرَهُ فَاتْرُكْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حرملہ عنبری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور جب تم کسی محفل میں موجود ہو اور تم وہاں سے اٹھو اور پھر تم ان لوگوں کو وہ بات کہتے ہوئے سنو ، جو تمہیں اچھی لگے تو تم چلے جانا اور جب ان لوگوں کو کوئی ایسی بات کہتے ہوئے سنو ، جو تم ناپسند کرتے ہو ، تو پھر اسے چھوڑ دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔