حدیث نمبر: 7111
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ : أَوْصِنِي . فَقَالَ : سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَبْلِكَ . أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلُّ شَيْءٍ ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، فَإِنَّهُ جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : " وَاخَزِنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ، فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ انہوں نے فرمایا : تم نے مجھ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تم سے پہلے دریافت کیا ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ) ” میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ ہر چیز کی بنیاد ہے اور تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے اور تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا لازم ہے کیونکہ یہ آسمان میں تمہارے لئے آسانی کا باعث بنے گا اور زمین میں تمہارے ذکر کا باعث بنے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ ہر بھلائی کا مجموعہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم اپنی زبان کو صرف بھلائی کے کام میں استعمال کرنا ، اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7111
درجۂ حدیث محدثین: رواہ أحمد : إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1000) اخرجه احمد فى المسند (82/3)»