مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی وصیت کا بیان
وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ . وَلَا تَعُقَنَّ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ . وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا ، فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ . وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا ، فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ . وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ ، فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخْطُ اللَّهِ . وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ ، وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ ، وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ فَاثْبُتْ . وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس کلمات کی وصیت کی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں قتل کر دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ، اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنے مال سے نکل جاؤ ، اور تم فرض نماز جان بوجھ کر ہرگز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر ترک کر دیتا ہے ، اس سے اللہ تعالی کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم شراب ہرگز نہ پینا ، کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے اور تم گناہ کے ارتکاب سے بچ کے رہنا ، کیونکہ گناہ اللہ تعالیٰ کی ناراضنگی کو حلال کر دیتا ہے اور تم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے سے بچنا ، خواہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہوں ، اگر لوگوں کو موت لاحق ہو جائے ، تو تم ثابت قدم رہنا ، اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان کی تربیت کے حوالے سے ان سے عصا کو نہ اٹھانا اور انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے رہنا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، امام طبرانی کی سند متصل ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔