حدیث نمبر: 7109
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَتِفٍ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَخْتَلِفُونَ بِعْدِي أَبَدًا " . ¤ فَأَخَذَ مَنْ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ فِي لَغَطٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِمَّنْ حَضَرَ : وَيْحَكُمُ عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ ! فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : اسْكُتِي ، فَإِنَّهُ لَا عَقْلَ لَكِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ لَا أَحْلَامَ لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جانور کے ) کندھے ( کی ہڈی ) منگوائی ، آپ نے فرمایا : میرے پاس کندھا ( یعنی جانور کی کندھے کی ہڈی ) لے کر آؤ ! تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں ، تم میرے بعد کبھی اختلاف نہیں کرو گے تو آپ کے پاس لوگوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ، حاضرین میں سے ایک خاتون نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: تم خاموش رہو ! تمہیں عقل نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب میں سمجھ داری نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10961 و 10962 و 12261) اخرجه احمد فى المسند (2676)»