مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کی وصیت کا بیان
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ ، وَلَا يُضِلُّونَ . وَكَانَ فِي الْبَيْتِ لَغَطٌ فَتَكَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَفَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ يَكْتُبُ فِيهَا كِتَابًا لِأُمَّتِهِ قَالَ : " لَا يَظْلِمُونَ ، وَلَا يُظْلَمُونَ " . وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے قریب ایک صحیفہ منگوایا ، تاکہ اس میں ایسی تحریر لکھ دیں کہ جس کے بعد لوگ گمراہ نہیں ہوں گے اور گمراہ نہیں کریں گے ، گھر میں اس بارے میں آوازیں بلند ہوئیں ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بات چیت شروع کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحریر میں اپنی امت کے لئے یہ لکھوانا تھا کہ نہ وہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم کیا جائے ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔