مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَصِيِّ يَشْتَرِي لِنَفْسِهِ مِنْ مَالِ التَّرِكَةِ أَوْ يَسْتَقْرِضُ . باب: وصی کا ترکہ کے مال میں سے اپنی ذات کے لئے کچھ خریدنا یا اس مال کو قرض کے طور پر لینا
حدیث نمبر: 7107
عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ : جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، فَقَالَ : إِنَّ عَمِّي أَوْصَى إِلَيَّ بِتَرِكَتِهِ ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ تَرِكَتِهِ أَفَأَشْتَرِيهِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس کا تعلق ہمدان سے تھا ، وہ ابلق گھوڑے پر سوار تھا ، اس نے کہا: میرے چچا نے اپنے ترکہ کے بارے میں میرے لئے وصیت کی تھی ( کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں گا ) اور یہ گھوڑا اس ترکہ میں شامل ہے ، تو کیا میں اسے خرید سکتا ہوں ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! تم اس مال میں سے کوئی چیز قرض کے طور پر بھی نہیں لو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔