حدیث نمبر: 6966
وَعَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي . قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَقْعُدُ ، وَلَا يُكَلِّمُ النَّاسَ ، وَلَا يَسْتَظِلُّ ، وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَقْعُدْ وَلْيُكَلِّمِ النَّاسَ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَصُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ : رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ " قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی : یا رسول اللہ ! یہ وہ شخص ہے ، جو بیٹھتا نہیں ہے اور لوگوں کے ساتھ کلام نہیں کرتا اور سائے میں نہیں بیٹھتا اور اس کا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بیٹھ جانا چاہیے ، لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے سائے میں آ جانا چاہیے اور روزہ رکھ لینا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا وہ دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ دھوپ میں کھڑا رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (391/22) اخرجه احمد فى المسند (168/4)»