مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6959
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : نَذَرَ أَبُو إِسْرَائِيلَ أَنْ يَقُومَ يَوْمًا فِي الشَّمْسِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ ، وَلَا يَتَكَلَّمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقْعُدَ وَيَتَكَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ نے یہ نذر مانی کہ وہ پورا دن ، رات ہونے تک دھوپ میں کھڑے رہیں گے اور بات چیت نہیں کریں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ بیٹھ بھی جائیں اور بات چیت بھی کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔