حدیث نمبر: 6960
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ قَالَ : سُرِقَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَدْعَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَئِنْ رَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ لَأَشْكُرَنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . فَوَقَعَتْ فِي حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِ امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ فَكَانَتِ الْإِبِلُ إِذَا سَرَحَتْ سَرَحَتْ مُتَوَحِّدَةً فَإِذَا بَرَكَتِ الْإِبِلُ بَرَكَتْ مُتَوَحِّدَةً وَاضِعَةً بِجِرَانِهَا . فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : كَأَنِّي بِهَذِهِ النَّاقَةِ تَمَثَّلُ بِشَيْءٍ فَأَوْقَعَ اللَّهُ فِي خَلَدِهَا أَنْ تَهَرُبَ عَلَيْهَا فَوَجَدَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفْلَةً فَقَعَدَتْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ حَرَّكَتْهَا ، فَصَبَّحَتْ بِهَا الْمَدِينَةَ ، فَلَمَّا رَآهَا الْمُسْلِمُونَ فَرِحُوا بِهَا وَمَشَوْا بِجَنْبِهَا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ " . فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَهَا وَأُطْعِمَ لَحْمَهَا الْمَسَاكِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا . لَا نَذْرَ لَكِ إِلَّا فِيمَا مَلَكَتْ يَمِينُكِ " فَانْتَظَرْنَا هَلْ يُحْدِثُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْمًا أَوْ صَلَاةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ : " لَئِنْ رَدَّهَا اللَّهُ تَعَالَى عَلَيَّ لَأَشْكُرَنَّ رَبِّي " . فَقَالَ : " أَوَلَمْ أَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ وَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ وَتُرِكَ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعاء چوری ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے وہ مجھے واپس کروا دی تو میں اپنے پروردگار کا ضرور شکر ادا کروں گا ، وہ اونٹنی عربوں کے ایک قبیلے تک پہنچ گئی ، جس میں ایک مسلمان عورت بھی قید تھی ، وہاں یہ ہوتا تھا کہ جب اونٹ بیٹھتے تھے تو الگ الگ بیٹھا کرتے تھے اور اپنی گردن ڈال دیتے تھے اس عورت نے سوچا یوں لگتا ہے یہ اونٹنی کچھ مانوس سی لگتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اس کے اوپر سوار ہو کر فرار ہو سکتی ہے ، اس نے لوگوں کو غفلت کی حالت میں پایا ، تو وہ اس اونٹنی پر سوار ہوئی اسے حرکت دی اور اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آ گئی جب مسلمانوں نے اسے دیکھا تو وہ اس حوالے سے خوش ہوئے اور اس کے پہلو میں چلتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اونٹنی پر نجات عطا کر دی ، تو میں اسے قربان کر کے اس کا گوشت مسکینوں کو کھلاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اسے برا بدلہ دیا ہے ، تمہاری نذر صرف اس چیز کے بارے میں ہو سکتی ہے ، جس کی تم مالک ہو ، راوی کہتے ہیں : ہم اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھیں گے ، یا نماز پڑھیں گے ، لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ نے تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی مجھے واپس کر دی ، تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے یہ نہیں کہا: تھا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے ، جسے محمد بن مبارک صوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ان کی اس بات کو مسترد کیا گیا ہے ائمہ نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6960
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1075)»