حدیث نمبر: 6958
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ النَّاسَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَرَأَى رَجُلًا قَائِمًا كَأَنَّهُ أَعْرَابِيٌّ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ قَائِمًا ؟ " . قَالَ : نَذَرْتُ أَنْ لَا أَجْلِسَ حَتَّى تَفْرَغَ مِنْ خُطْبَتِكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ لَيْسَ هَذَا بِنَذْرٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شدید گرم دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا آپ نے ایک شخص کو کھڑے ہوئے ملاحظہ فرمایا ، وہ دیہاتی لگ رہا تھا اور دھوپ میں کھڑا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا: میں نے یہ نذر مانی ہے کہ جب تک آپ خطبہ سے فارغ نہیں ہوں گے میں بیٹھوں گا نہیں ’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! یہ نذر نہیں ہوتی ہے ، نذر وہ ہوتی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مراد لی گئی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبرانى فى المعجم الاوسط (1432) اخرجه احمد فى المسند (6975)»