مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6957
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : حَفِظْتُ لَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتًّا : " لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ " . ¤ قُلْتُ : وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الطَّلَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : تمہارے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے چھ چیزیں یاد ہیں : ” طلاق دینے کا حق صرف نکاح کے بعد ہوتا ہے ، غلام آزاد کرنا صرف ملکیت کے بعد ہوتا ہے اور معصیت کے بارے میں نذر پوری نہیں کی جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت طلاق سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔