مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا قَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ نَاشِرَةً شَعْرَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْتَمِرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي يَحْيَى ، وَهُوَ غَيْرُ الَّذِي فِي الْمِيزَانِ ، فَإِنَّ هَذَا رَوَى عَنْهُ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ، وَرَوَى هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران مکہ کے قریب ایک عورت کو دیکھا ، جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے ( یعنی وہ پردے کے بغیر تھی ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش سے تعلق رکھنے والی عورت ہے اور اس نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اپنے بال کھلے رکھ کر ( یعنی پردے کے بغیر ) حج کے لئے جائے گی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ چادر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابویحیی ہے ، یہ اس راوی کے علاوہ ہے ، جس کا ذکر ” میزان “ میں ہوا ہے کیونکہ اس سے فضل بن سہل اعرج نے روایت نقل کی ہے اور وہ زید بن حباب سے روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔