مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6954
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَجُلَيْنِ مَقْرُونَيْنِ حَاجَّيْنِ نَذْرًا ، فَقَالَ : " انْزِعَا قِرَانَكُمَا " . فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ نَذْرٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْزِعَا قِرَانَكُمَا ، ثُمَّ حُجَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو آدمیوں کے پاس سے ہوا ، جو بندھے ہوئے تھے اور حج کے لئے جا رہے تھے ، انہوں نے نذر مانی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اپنی رسی کو اتار دو ، ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نذر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اپنی رسی کو اتار دو اور پھر حج کے لیے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔