مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْرَكَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا مُقْتَرِنَانِ يَمْشِيَانِ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ الْقِرَانِ ؟ " . قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ مُقْتَرِنَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ هَذَا نَذْرًا " - فَقَطَعَ قِرَانَهُمَا - " إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو پایا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور پیدل چلتے ہوئے بیت اللہ کی طرف جا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس رسی کا کیا معاملہ ہے ؟ ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے یہ نذر مانی تھی کہ اس طرح رسی میں بندھ کر پیدل چل کر ، بیت اللہ کی طرف جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز نذر نہیں ہوتی ہے ، آپ نے ان دونوں کی رسی کو کٹوا دیا اور فرمایا : نذر اس چیز کے بارے میں ہوتی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مراد لیا گیا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔