حدیث نمبر: 6903
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ يُقَالُ لَهُ : امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَضَى عَلَى الْحَضْرَمِيِّ بِالْبَيِّنَةِ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : [ إِنْ ] أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ وَاللَّهِ - أَوْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - أَرْضِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلِفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَحَدٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ رَجَاءٌ : وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ : مَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا لَهُ كُلَّهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام امرء القیس بن عابس تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضر موت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے خلاف مقدمہ پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی شخص کے لیے ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ دیا ، تو اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لیے قسم کا فیصلہ دیا ، تو حضرمی نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے ، تو یہ اللہ کی قسم ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) رب کعبہ قسم ! میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی شخص کا مال ہتھیائے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالٰی اس پر غضبناک ہو گا “ ۔ رجاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں ، تھوڑی قیمت کماتے ہیں “ ۔ امرہ القیس نے کہا: یا رسول اللہ ! جو شخص اسے چھوڑ دے ، اُسے کیا ثواب ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ، اس نے عرض کی : پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ساری زمین اس کے لئے چھوڑ دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح