مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْضِ أَحَدِهِمَا مِنْ [ أَهْلِ ] حَضْرَمَوْتَ قَالَ : فَجَعَلَ يُحَلِّفُ أَحَدَهُمَا ، فَضَجَّ الْآخَرُ وَقَالَ : إِذًا ذَهَبَ بِأَرْضِي . فَقَالَ : " إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِ وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ " قَالَ : وَوَرِعَ الْآخَرُ فَرَدَّهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے ایک زمین کے بارے میں مقدمہ پیش کیا جو ان دونوں میں سے کسی ایک کی تھی اور ان کا تعلق حضرموت سے تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک حلف اٹھانے لگا تو دوسرا پریشان ہو گیا اور بولا: ایسی صورت میں تو یہ میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے اپنی قسم کی بنیاد پر ظلم کے طور پر وہ زمین ہتھیائی ہو گی ، تو یہ ان افراد میں سے ایک ہو گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی نہ تو اس کی طرف نظر کرے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو دوسرا شخص پریشان ہو گیا اور اس نے وہ زمین واپس کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔