حدیث نمبر: 6904
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَامْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ عَابِسٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ خُصُومَةٌ لَهُ فِي أَرْضٍ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَ وَاللَّهِ بِأَرْضِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَ الْقَيْسَ فَتَلَا عَلَيْهِ الْآيَةَ : " إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ " . فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا لِمَنْ تَرَكَهَا ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرموت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور امرء القیس بن عابس کے درمیان ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے ثبوت مانگا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لئے قسم اٹھانے کا فیصلہ دے دیا ، تو حضرمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے ، تو اللہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جھوٹی قسم اٹھا لے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہتھیا لے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الآیة تو امراء القیس نے کہا: یا رسول اللہ ! جو شخص اسے ترک کر دے ، اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ، اس نے عرض کی : پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/17 و138)»