مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَامْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ عَابِسٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ خُصُومَةٌ لَهُ فِي أَرْضٍ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَ وَاللَّهِ بِأَرْضِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَ الْقَيْسَ فَتَلَا عَلَيْهِ الْآيَةَ : " إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ " . فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا لِمَنْ تَرَكَهَا ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرموت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور امرء القیس بن عابس کے درمیان ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے ثبوت مانگا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لئے قسم اٹھانے کا فیصلہ دے دیا ، تو حضرمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے ، تو اللہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جھوٹی قسم اٹھا لے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہتھیا لے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الآیة تو امراء القیس نے کہا: یا رسول اللہ ! جو شخص اسے ترک کر دے ، اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ، اس نے عرض کی : پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔