حدیث نمبر: 678
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَنَا مَعَهُمْ ، وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قُلْتُ : كَيْفَ تُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ سَمِعْتُمْ مَا قَالَ وَأَنْتُمْ تَنْهَمِكُونَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَحِكُوا فَقَالُوا : يَا ابْنَ أَخِينَا ، إِنَّ كُلَّ مَا سَمِعْنَا مِنْهُ عِنْدَنَا فِي كِتَابٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب موجود تھے ، اُن کے ساتھ میں بھی تھا اور میں اُن میں سب سے کم عمر تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، تو میں نے کہا: آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث کیسے روایت کریں گے ؟ جبکہ آپ حضرات نے وہ بات سن لی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنے کا انجام کیا ہو گا ؟ ) تو اب آپ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرنے سے رک جائیں گے ، تو وہ لوگ ہنس پڑے اور بولے : اے ہمارے بھتیجے ! ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سنا ہے ، وہ ہمارے پاس تحریری طور پر موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ راوی متروک الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف