حدیث نمبر: 679
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَيِّدُ الْعِلْمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمَا تَقْيِيدُهُ ؟ قَالَ : " الْكِتَابَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ : ثِقَةٌ قَلِيلُ الْحَدِيثِ وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں علم کو قید کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اُس کو قید کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تحریر کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن سعد کہتے ہیں ، یہ ثقہ ، لیکن قلیل الحدیث ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5056»