کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم کو تحریر کرنا
حدیث نمبر: 670
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعْصُوبًا رَأْسُهُ ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْكُتُبُ الَّتِي يَبْلُغُنِي أَنَّكُمْ تَكْتُبُونَهَا ، أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ ؟ يُوشِكُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِكِتَابِهِ ، فَيُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا ; فَلَا يَتْرُكُ فِي وَرَقَةٍ وَلَا فِي قَلْبٍ مِنْهُ حَرْفًا إِلَّا ذَهَبَ بِهِ " ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَ الْمَجْلِسَ : فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا أَبْقَى فِي قَلْبِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا : ” ان تحریروں کا کیا معاملہ ہے ؟ جن کے بارے میں مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم انہیں نوٹ کرتے ہو ، کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ نوٹ کیا جائے گا ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہو گا اور پھر اس کتاب کو رات کے وقت اُٹھا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) کسی ورق میں ، یا کسی دل میں اُس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا ، مگر یہ کہ اسے اٹھا لے گا “ حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر مؤمن مردوں اور مؤمن خواتین کا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، اُس کے دل میں لا الہ الا اللہ باقی رہنے دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے ، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 7514»
حدیث نمبر: 671
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا وَاتَّبَعُوهُ ، وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل نے تحریر لکھی اور اس کی پیروی کرنے لگے انہوں نے ” تورات “ کو چھوڑ دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5548»
حدیث نمبر: 672
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " مَا هَذَا تَكْتُبُونَ ؟ " فَقُلْنَا : مَا نَسْمَعُ مِنْكَ ، فَقَالَ : " أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَأَخْلَصُوهُ " . قَالَ : فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَاهُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ ، فَقُلْنَا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، نَتَحَدَّثُ عَنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ : قُلْنَا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے وہ باتیں نوٹ کر رہے تھے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ تم لوگ کیا نوٹ کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : وہ باتیں جو ہم نے آپ سے سنی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ اور بھی نوٹ کیا جائے گا ؟ تم لوگ صرف اللہ کی کتاب کو رہنے دو ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے جو کچھ بھی نوٹ کیا ہوا تھا ، وہ سب ہم نے ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس کو آگ کے ذریعے جلا دیا ، ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے حوالے سے احادیث روایت کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم میرے حوالے سے حدیث روایت کر دیا کرو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم لوگ بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کرو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تم ان کے حوالے سے جو بھی چیز نقل کرو گے ، ان کے درمیان اس سے زیادہ عجیب چیز موجود ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث منقول ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 12/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 215»
حدیث نمبر: 673
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلَّا الْقُرْآنَ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے حوالے سے صرف قرآن نوٹ کرو ! جس نے میرے حوالے سے قرآن کے علاوہ کچھ اور نوٹ کیا ہو ، وہ اُس تحریر کو مٹا دے ! بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 194»
حدیث نمبر: 674
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : كَتَبْتُ عَنْ أَبِي كِتَابًا ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنَّ فِيهِ كِتَابَ اللَّهِ لَأَحْرَقْتُهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمِرْكَنٍ أَوْ بِإِجَّانَةٍ ، فَغَسَلَهَا ثُمَّ قَالَ : عِ عَنِّي مَا سَمِعْتَ مِنِّي ، وَلَا تَكْتُبْ عَنِّي ; فَإِنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابًا ، كِدْتَ أَنْ تُهْلِكَ أَبَاكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : احْفَظْ كَمَا حَفِظْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کے حوالے سے کچھ باتیں نوٹ کیں ، تو انہوں نے فرمایا : اگر اس میں اللہ کی کتاب کی آیات نہ ہوتیں ، تو میں نے اس کو جلا دینا تھا ، پھر اُنہوں نے ایک ٹب ، یا بڑا برتن منگوایا اور اُس تحریر کو دھو دیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم مجھ سے جو کچھ بھی سنتے ہو ، اسے ذہن میں محفوظ رکھو ! لیکن میرے حوالے سے کوئی چیز نوٹ نہ کرو ! کیونکہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی تحریر نوٹ نہیں کی ہے ( اگر تم نے میرے حوالے سے کچھ نوٹ کیا ) تو قریب ہے ( یعنی اس بات کا امکان موجود ہے ) کہ تم اپنے باپ کو ہلاکت کا شکار کر دو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اسی طرح یاد رکھو ! جس طرح ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باتیں یاد رکھی ہیں ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 674
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 195.»
حدیث نمبر: 675
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَيْضًا قَالَ : كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي حَدِيثًا كَتَبْتُهُ فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قُلْتُ : إِنِّي أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ . قَالَ : فَأْتِنِي بِهِ ، فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : نَعَمْ ، هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ فِيهَا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابوبردہ سے ہی یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : جب میں اپنے والد سے کوئی حدیث سنتا تھا ، تو اسے نوٹ کر لیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! تم کیا کرتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں آپ سے جو روایت سنتا ہوں ، اسے نوٹ کر لیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : وہ ( تحریر ) میرے پاس لے کر آؤ ! میں نے اُن کے سامنے وہ تحریر پڑھی ، تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی اضافہ یا کمی نہ ہو گئی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ ، امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 197»
حدیث نمبر: 676
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِّي ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْكِتَابَةِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ ، خَلَا اسْتِئْذَانِهِ فِي الْكِتَابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَعَمْرٌو فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مجھ سے زیادہ عالم اور کوئی نہیں تھا ، البتہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ حدیث کو اپنے ہاتھ کے ذریعے نوٹ کرتے تھے اور دل میں محفوظ بھی کرتے تھے ، جبکہ میں دل میں اُس کو محفوظ کر لیتا تھا ، لیکن ہاتھ کے ذریعے نوٹ نہیں کرتا تھا ، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نوٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں تحریر کی اجازت مانگنے اور دیگر امور کا تذکرہ نہیں ہے ، یہ روایت ابن اسحاق نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہے ، ابن اسحاق ، تدلیس کرنے والا شخص ہے ، جبکہ عمرو کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 676
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 214»
حدیث نمبر: 677
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَحَدَّثُوا ، وَلْيَتَبَوَّأَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَنَكْتُبُهَا ؟ قَالَ : " اكْتُبُوا وَلَا حَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مُدْرِكٍ ، رَوَى عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، وَعَنْهُ بَقِيَّةُ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ حدیث روایت کرو ! لیکن جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ باتیں سنتے ہیں ، کیا ہم انہیں نوٹ کر لیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نوٹ کر لیا کرو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومدرک ہے ، جس نے رفاعہ بن رافع سے روایت نقل کی ہے ، جبکہ اس سے بقیہ نے روایت نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 678
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَنَا مَعَهُمْ ، وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قُلْتُ : كَيْفَ تُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ سَمِعْتُمْ مَا قَالَ وَأَنْتُمْ تَنْهَمِكُونَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَحِكُوا فَقَالُوا : يَا ابْنَ أَخِينَا ، إِنَّ كُلَّ مَا سَمِعْنَا مِنْهُ عِنْدَنَا فِي كِتَابٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب موجود تھے ، اُن کے ساتھ میں بھی تھا اور میں اُن میں سب سے کم عمر تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، تو میں نے کہا: آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث کیسے روایت کریں گے ؟ جبکہ آپ حضرات نے وہ بات سن لی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنے کا انجام کیا ہو گا ؟ ) تو اب آپ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرنے سے رک جائیں گے ، تو وہ لوگ ہنس پڑے اور بولے : اے ہمارے بھتیجے ! ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سنا ہے ، وہ ہمارے پاس تحریری طور پر موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ راوی متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 679
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَيِّدُ الْعِلْمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمَا تَقْيِيدُهُ ؟ قَالَ : " الْكِتَابَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ : ثِقَةٌ قَلِيلُ الْحَدِيثِ وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں علم کو قید کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اُس کو قید کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تحریر کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن سعد کہتے ہیں ، یہ ثقہ ، لیکن قلیل الحدیث ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5056»
حدیث نمبر: 680
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَيِّدَ الْعِلْمَ " قُلْتُ : وَمَا تَقْيِيدُهُ ؟ قَالَ : " الْكِتَابَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِيهِ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ تَرَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم کو قید کر لو ! میں نے عرض کی : اُس کو قید کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لکھ لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جس کے بارے میں کلام اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے ، جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 848»
حدیث نمبر: 681
وَعَنْ ثُمَامَةَ قَالَ : قَالَ لَنَا أَنَسٌ : قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ثمامہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: علم کو لکھ کر قید کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 682
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُوءَ الْحِفْظِ ، فَقَالَ : " اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حافظے کی خرابی کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے مدد حاصل کرو ( یعنی بات کو نوٹ کر لیا کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 2825»
حدیث نمبر: 683
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُوءَ الْحِفْظِ ، فَقَالَ : " اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ عَلَى حِفْظِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حافظے کی خرابی کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یاد رکھنے کے لئے تم دائیں ہاتھ سے مدد حاصل کرو ! ( یعنی بات کو نوٹ کر لیا کرو ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع، اس میں الخصیب بن جحدر کذاب راوی ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 801»