مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ . باب: علم کو تحریر کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِّي ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْكِتَابَةِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ ، خَلَا اسْتِئْذَانِهِ فِي الْكِتَابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَعَمْرٌو فِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مجھ سے زیادہ عالم اور کوئی نہیں تھا ، البتہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ حدیث کو اپنے ہاتھ کے ذریعے نوٹ کرتے تھے اور دل میں محفوظ بھی کرتے تھے ، جبکہ میں دل میں اُس کو محفوظ کر لیتا تھا ، لیکن ہاتھ کے ذریعے نوٹ نہیں کرتا تھا ، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نوٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں تحریر کی اجازت مانگنے اور دیگر امور کا تذکرہ نہیں ہے ، یہ روایت ابن اسحاق نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہے ، ابن اسحاق ، تدلیس کرنے والا شخص ہے ، جبکہ عمرو کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔