حدیث نمبر: 675
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَيْضًا قَالَ : كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي حَدِيثًا كَتَبْتُهُ فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قُلْتُ : إِنِّي أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ . قَالَ : فَأْتِنِي بِهِ ، فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : نَعَمْ ، هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ فِيهَا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین

ابوبردہ سے ہی یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : جب میں اپنے والد سے کوئی حدیث سنتا تھا ، تو اسے نوٹ کر لیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! تم کیا کرتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں آپ سے جو روایت سنتا ہوں ، اسے نوٹ کر لیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : وہ ( تحریر ) میرے پاس لے کر آؤ ! میں نے اُن کے سامنے وہ تحریر پڑھی ، تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی اضافہ یا کمی نہ ہو گئی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ ، امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 197»