مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ . باب: علم کو تحریر کرنا
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : كَتَبْتُ عَنْ أَبِي كِتَابًا ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنَّ فِيهِ كِتَابَ اللَّهِ لَأَحْرَقْتُهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمِرْكَنٍ أَوْ بِإِجَّانَةٍ ، فَغَسَلَهَا ثُمَّ قَالَ : عِ عَنِّي مَا سَمِعْتَ مِنِّي ، وَلَا تَكْتُبْ عَنِّي ; فَإِنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابًا ، كِدْتَ أَنْ تُهْلِكَ أَبَاكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : احْفَظْ كَمَا حَفِظْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کے حوالے سے کچھ باتیں نوٹ کیں ، تو انہوں نے فرمایا : اگر اس میں اللہ کی کتاب کی آیات نہ ہوتیں ، تو میں نے اس کو جلا دینا تھا ، پھر اُنہوں نے ایک ٹب ، یا بڑا برتن منگوایا اور اُس تحریر کو دھو دیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم مجھ سے جو کچھ بھی سنتے ہو ، اسے ذہن میں محفوظ رکھو ! لیکن میرے حوالے سے کوئی چیز نوٹ نہ کرو ! کیونکہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی تحریر نوٹ نہیں کی ہے ( اگر تم نے میرے حوالے سے کچھ نوٹ کیا ) تو قریب ہے ( یعنی اس بات کا امکان موجود ہے ) کہ تم اپنے باپ کو ہلاکت کا شکار کر دو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اسی طرح یاد رکھو ! جس طرح ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باتیں یاد رکھی ہیں ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔