حدیث نمبر: 625
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَادِيثَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي ، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ حَفِظَ شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن میمون حضری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عقب بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختلف احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بولے : تمہارے یہ ساتھی یا تو حافظ ہیں ، یا ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری جو آخری ملاقات ہوئی تھی ، اُس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم لوٹ کر ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے ، جو میرے حوالے سے حدیث روایت کرنے کو پسند کرتے ہوں گے ، تو جو شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جس شخص کو کوئی بات یاد ہو ، اسے وہ بات بیان کر دینی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 334/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 295/19 اورده المؤلف فى زوائد المسند 240 اورده المؤلف فى كشف الاستار 216»