مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَتَى طَعَامًا مِنْ غَيْرِ دَعْوَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو دعوت کے بغیر کھانے میں آ جائے
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكَنَّى أَبَا شُعَيْبٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا ، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَصْنَعَ طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ ، ثُمَّ دَعَوْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ : " هَذَا تَبِعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ " . فَأَذِنْتُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ، جن کی کنیت ابوشعیب تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے آپ کے چہرے سے بھوک کا اندازہ ہو گیا میں اپنے قصاب غلام کے پاس آیا میں نے اسے حکم دیا کہ وہ پانچ افراد کے لئے کھانا تیار کرے ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ افراد آئے ان کے ساتھ ایک اور فرد بھی آ گیا جب وہ دروازے پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے اگر تم چاہو ، تو اسے اجازت دے دو ! ورنہ یہ واپس چلا جاتا ہے ، تو میں نے اسے اجازت دے دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔