مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ دُعِيَ فَدَعَا غَيْرُهُ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ . باب: اس شخص کا بیان جسے دعوت میں بلایا جائے اور پھر وہ اجازت کے بغیر دوسرے شخص کو بھی بلا لے
حدیث نمبر: 6170
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ إِلَى طَعَامٍ أَنْ يَدْعُوَ مَعَهُ أَحَدًا إِلَّا أَنْ يَأْمُرَهُ أَهْلُ الطَّعَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْمَطْرُوحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کیا کرتے تھے جب کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کسی اور کو بھی لے جائے البتہ کھانا تیار کرنے والے اگر اس کی اجازت دے دیں تو حکم مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند مطروح نہیں ہے ۔