حدیث نمبر: 6172
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دَخَلَ عَلَى قَوْمٍ لِطَعَامٍ لَمْ يُدْعَ لَهُ دَخَلَ فَاسِقًا ، وَأَكَلَ حَرَامًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ دَخَلَ عَلَى قَوْمٍ لِطَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ فَأَكَلَ شَيْئًا أَكَلَ حَرَامًا " . فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی قوم کے کھانے میں داخل ہوتا ہے حالانکہ اسے بلایا نہ گیا ہو ، تو وہ فاسق ہونے کے طور پر اندر آتا ہے اور حرام کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن خالد ہے اور وہ مجہول ہے اور یہ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی حوالے سے نقل کی ہے تاہم اس میں ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص کسی قوم کے کھانے میں آتا ہے ، جس کی طرف اسے دعوت نہ دی گئی ہو پھر وہ کچھ کھا لیتا ہے ، تو وہ حرام کھاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1244)»