کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو دعوت کے بغیر کھانے میں آ جائے
حدیث نمبر: 6171
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكَنَّى أَبَا شُعَيْبٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا ، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَصْنَعَ طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ ، ثُمَّ دَعَوْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ : " هَذَا تَبِعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ " . فَأَذِنْتُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ، جن کی کنیت ابوشعیب تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے آپ کے چہرے سے بھوک کا اندازہ ہو گیا میں اپنے قصاب غلام کے پاس آیا میں نے اسے حکم دیا کہ وہ پانچ افراد کے لئے کھانا تیار کرے ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ افراد آئے ان کے ساتھ ایک اور فرد بھی آ گیا جب وہ دروازے پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے اگر تم چاہو ، تو اسے اجازت دے دو ! ورنہ یہ واپس چلا جاتا ہے ، تو میں نے اسے اجازت دے دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1102) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (199/17)»
حدیث نمبر: 6172
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دَخَلَ عَلَى قَوْمٍ لِطَعَامٍ لَمْ يُدْعَ لَهُ دَخَلَ فَاسِقًا ، وَأَكَلَ حَرَامًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ دَخَلَ عَلَى قَوْمٍ لِطَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ فَأَكَلَ شَيْئًا أَكَلَ حَرَامًا " . فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی قوم کے کھانے میں داخل ہوتا ہے حالانکہ اسے بلایا نہ گیا ہو ، تو وہ فاسق ہونے کے طور پر اندر آتا ہے اور حرام کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن خالد ہے اور وہ مجہول ہے اور یہ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی حوالے سے نقل کی ہے تاہم اس میں ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص کسی قوم کے کھانے میں آتا ہے ، جس کی طرف اسے دعوت نہ دی گئی ہو پھر وہ کچھ کھا لیتا ہے ، تو وہ حرام کھاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1244)»
حدیث نمبر: 6173
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ يَرْفَعُهُ قَالَ : " مَنْ جَاءَ إِلَى طَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ دَخَلَ سَارِقًا ، وَأَكَلَ حَرَامًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَأَكَلَ حَرَامًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص کسی ایسے کھانے کی طرف آتا ہے ، جس کی اسے دعوت نہ دی گئی ہو ، تو وہ چور ہونے کے طور پر اندر آتا ہے اور حرام کھاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اور وہ حرام کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابان بن طارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1245)»
حدیث نمبر: 6174
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ نُسَمِّي الْإِمَّعَةَ الَّذِي يَأْتِي الطَّعَامَ وَلَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ ، إِلَّا إِنَّ الْإِمَّعَةَ فِيكُمُ : الْمُحْقِبُ دِينَهُ . ¤
محمد محی الدین
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ہم اس شخص کو ’’ امعہ ‘‘ کا نام دیتے تھے جو ایسے کھانے میں شریک ہوتا تھا جس کی اسے دعوت نہ دی گئی ہو اور تمہارے درمیان امعہ وہ شخص ہوتا ہے ‘ جو اپنے دین کو پس پشت ڈال دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6174
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8766)»
حدیث نمبر: 6175
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا : كُنَّا نُسَمِّي الْإِمَّعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : الَّذِي يُدْعَى إِلَى طَعَامٍ فَيَتْبَعُهُ الرَّجُلُ ، وَهُوَ الْيَوْمَ الَّذِي يُحْقِبُ [ النَّاسَ ] دِينَهُ ، وَكُنَّا نُسَمِّي الْعِضَةَ السَّمَرَ ، وَهُوَ الْيَوْمَ : قِيلَ وَقَالَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ان سے منقول ہے اس میں یہ بات مذکور ہے ہم زمانہ جاہلیت میں امعہ اسے کہتے تھے کہ جسے کھانے کی دعوت دی گئی ہو اور اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی پیچھے چلا جائے اور آج یہ اس شخص کو کہا: جاتا ہے ، جو لوگوں کے لیے اپنے دین کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، اور ہم ” جھوٹ “ کو ” سمر “ کہتے تھے اور آج اسے ” قیل وقال “ کہا: جاتا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں اور وہ دونوں ہی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6175
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8767)»