مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ . باب: گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے کی ممانعت
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَرَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً فِي الْحُجْرَةِ ، فَبَوَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ فَقَالَتْ : ادْخُلْ ، فَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ ، فَدَخَلَ ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَانْتَظَمَهَا بِرُمْحِهِ ، ثُمَّ رَكَّزَ الرُّمْحَ فِي الدَّارِ ، فَانْتَفَضَتِ الْحَيَّةُ ، وَانْتَفَضَ الرَّجُلُ ، فَمَاتَتِ الْحَيَّةُ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ جِنٌّ مُسْلِمُونَ " . أَوْ قَالَ : " بِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَتَعَوَّذُوا مِنْهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلا راستے سے وہ واپس آیا اس نے اپنی بیوی کا جائزہ لینا تھا تو اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس نے نیزہ اس کی طرف بڑھایا تو اس عورت نے کہا: اندر تو آؤ اور دیکھو کہ گھر میں کیا صورت حال ہے ؟ وہ اندر گیا تو گھر میں ایک سانپ اس کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اس شخص نے نیزے میں اس سانپ کو پرو دیا اور پھر محلے میں لا کے وہ نیزہ گاڑ دیا اس سانپ نے حملہ کیا اور اس آدمی نے بھی حملہ کیا ، تو سانپ بھی مر گیا اور وہ آدمی بھی مر گیا ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : مدینہ میں کچھ مسلمان جنات آئے ہوئے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : ان گھروں میں کچھ رہنے والے ہیں جب ان میں سے کسی کو تم دیکھو تو اس سے پناہ مانگو اگر وہ دوبارہ آئے تو اسے مار دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔