حدیث نمبر: 6135
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَبَعَثَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَبَعَثَ فِيهِمْ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْقَوْمُ تَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً عَلَى بَابِهَا ، فَدَخَلَتْهُ غَيْرَةٌ فَهَيَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا ، فَقَالَتْ : لَا تَعْجَلْ ، وَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ . فَدَخَلَ الْبَيْتَ ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهَا ، فَطَعَنَ الْحَيَّةَ ، فَمَاتَتْ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ مِنَ الْجِنِّ " . وَنَهَى عَنْ قَتْلِهِنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہم میں اس شخص کو بھی بھیجوایا جب وہ شخص واپس آیا تو وہ جلدی سے اپنے گھر کی طرف گیا تو وہاں اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس شخص کو بڑا غصہ آیا اس نے نیزہ اس عورت کی طرف بڑھایا تاکہ اسے مار دے اس عورت نے کہا: جلدی نہ کرو اس بات کا جائزہ لو کہ گھر میں کیا ہے ؟ وہ گھر کے اندر گیا تو وہاں ایک سانپ اس کے بستر پر پڑا ہوا تھا اس نے اس سانپ کو نیزہ مارا تو وہ سانپ مر گیا اور وہ شخص بھی مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان گھروں میں کچھ جنات رہتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1146)»